پٹنہ،22/مارچ (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) بہار میں کرونا سے پہلی موت ہوئی ہے، 38 سال کی سیف علی مونگیر کا رہنے والا تھا۔ وہ قطر سے آیا اور 20 مارچ کو ایمس میں داخل ہوا تھا۔ سیف ذیابیطس مریض تھا اور اس کی گردے بھی خراب تھے۔ ایمس میں اس کو آئسو لیشن میں رکھا گیا تھا۔ سیف 14 دن پہلے قطر سے آیا تھا۔
پٹنہ ایمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پربھات کمار سنگھ نے کہا کہ ہفتے کی صبح کرونا متاثرہ سیف کی موت ہوئی ہے۔پٹنہ ایمس کے سپرنٹنڈنٹ سی ایم سنگھ نے کہا کہ سیف ڈالیسیز پر تھا، ہم نے اس کا سیمپل لیا اور تحقیق کے لئے بھیج دیا۔بہار میں پربامنڈل کے تین مریض کی تصدیق ہوئی ہے، جس میں ایک مریض سیف کی موت ہو چکی ہے، دو مریض کا علاج چل رہا ہے. دوسرا مریض پٹنہ سے ہے۔ اس کے خاندان کا ایک رکن اٹلی سے آیا تھا،اس کا علاج چل رہا ہے۔ تیسرا مریض رکسول ضلع کا ہیں۔ پی ایم سی ایچ آئسو لیشن وارڈ میں داخل 62 سال کے شیو کچھ دن پہلے سری لنکا سے واپس آئے ہیں۔
محکمہ صحت کے پرنسپل سکریٹری سنجے کمار نے کہا کہ مریضوں کے گزشتہ 15 دن کی سفری رواداد کی تفتیش کی جارہی ہے۔ ان تمام لوگوں کا پتہ لگایا جا رہا ہے جو اس دوران مریض کے رابطے میں آئے تھے، ایسے لوگوں کو قرنطینہ کیاجائے گا۔اتوار کو این ایم ایس ایچ میں ایک شخص کی موت ہو گئی۔
این ایم ایس ایچ کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر گوپال کرشن نے بتایا کہ صبح اورنگ آباد سے میاں بیوی کرونا کے مشتبہ مریض کے طور پر آئے تھے۔ انہیں قرنطینہ میں بھرتی کرنے کا عمل چل رہا تھا کہ شوہر کی موت ہو گئی۔ لاش کے نمونے کو کروناتحقیق کے لئے بھیجا گیا ہے۔گیا میں بودھ گیا مندر مینجمنٹ کمیٹی کے ڈرائیور ارجن کمار کی مشتبہ حالت میں موت ہو گئی۔
5 دن پہلے ارجن کرونا کی علامات آنے پر ایک نجی کلینک میں داخل ہوا تھا۔ ہفتہ کی رات 11:25 بجے میڈیکل کالج میں داخل ہونے کے بعد 12 بجے اس کی موت ہوگئی۔ آج اس کی رپورٹ آ سکتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہاں کرونا کی علامات پائے جانے کے بعد بھی جانچ کے لئے نمونے نہیں بھیجے گئے تھے۔
وزیر اعلی نتیش کمار نے کرونا سے موت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ نتیش نے کہا کہ کرونا کا بحران کافی سنگین ہے۔ تمام شہریوں کو آگاہ رہنے کی ضرورت ہے، احتیاط ہی اس سے بچاؤ کا طریقہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کروناسے فوت شدہ کے اہل خانہ کو وزیر اعلی راحت فنڈ سے چار لاکھ روپے بطور امداد کے دیئے جائیں گے۔